أَبُو النَّضْرِ ، وعَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدٌ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ، وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ، فَهُوَ لَهُمْ، وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو عمداً قتل کر دے اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا اگر وہ چاہیں تو اسے بدلے میں قتل کر دیں اور چاہیں تو دیت لے لیں جو تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہو گی، یہ قتل عمد کی دیت ہے اور جس چیز پر فریقین کے درمیان صلح ہو جائے وہ ورثاء مقتول کو ملے گی اور یہ سخت دیت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6717]
الحكم: إسناده حسن