بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27454
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27454
حدیث نمبر: 27454 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، امْرَأَةً
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ امْرَأَةً حَدَّثَتْهُ , قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ , فَقُلْتُ: تَضْحَكُ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَا , وَلَكِنْ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَخْرُجُونَ غُزَاةً فِي الْبَحْرِ , مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , قَالَتْ: ثُمَّ نَامَ , ثُمَّ اسْتَيْقَظَ أَيْضًا يَضْحَكُ , فَقُلْتُ: تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنِّي؟ قَالَ:" لَا , وَلَكِنْ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَخْرُجُونَ غُزَاةً فِي الْبَحْرِ , فَيَرْجِعُونَ قَلِيلَةً غَنَائِمُهُمْ مَغْفُورًا لَهُمْ" , قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , فَدَعَا لَهَا , قالَ: فَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ , قَالَ: فَرَأَيْتُهَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ هِيَ مَعَنَا , فَمَاتَتْ بِأَرْضِ الرُّومِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک خاتون صحابیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر میں قیولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے، میں نے عرض کیا کہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوار چلے جا رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعا کر دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! انہیں بھی ان میں شامل فرما دے۔ چنانچہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ و سفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27454]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912، وقوله فى آخر الحديث: فرأيتها فى غزاة غزاها...، وهم، لان المحفوظ ان ام حرام انما استشهدت فى قبرص، وكانت مع جيش معاوية بن ابي سفيان، لما غزاها
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912، وقوله فى آخر الحديث: فرأيتها فى غزاة غزاها...، وهم، لان المحفوظ ان ام حرام انما استشهدت فى قبرص، وكانت مع جيش معاوية بن ابي سفيان، لما غزاها
← پچھلی حدیث (27453) باب پر واپس اگلی حدیث (27455) →