بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 27109
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 27109
حدیث نمبر: 27109 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيد ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أُمَّ الطُّفَيْلِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيد , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الطُّفَيْلِ قَالَ قُتَيْبَةُ: امْرَأَةُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّهَا سَمِعَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يختصمان، فقالت أم الطفيل: أفلا يسأل عمر بن الخطاب سبيعة الأسلمية؟ توفي عنها زوجها وهي حامل، فوضعت بعد ذلك بأيام" فأنكحها رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے میرا اس بات پر اختلاف رائے ہو گیا کہ اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو تو کیا حکم ہے؟ میری رائے یہ تھی کہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے، اس پر میری ام ولدہ ام طفیل نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور مجھ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ کو حکم دیا تھا کہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27109]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة
← پچھلی حدیث (27108) باب پر واپس اگلی حدیث (27110) →