إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرٍ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أُمُّ الطُّفَيْلِ
َحدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَال: َأَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: نَازَعَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زوْجُهَا وَهِيَ حَامِل، فَقُلْتُ: تُزَوَّجُ إِذَا وَضَعَت، فَقَالَتْ أُمُّ الطُّفَيْلِ أُمُّ وَلَدِي , لِعُمَرَ وَلِي:" قَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ أَنْ " تَنْكِحَ إِذَا وَضَعَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے میرا اس بات پر اختلاف رائے ہو گیا کہ اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو تو کیا حکم ہے؟ میری رائے یہ تھی کہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے، اس پر میری ام ولدہ ام طفیل نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور مجھ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ کو حکم دیا تھا کہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27108]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن لهيعة