يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ، فَقَالَتْ: مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ؟" كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز اور قرأت کہاں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26526]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة يعلى ابن مملك
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة يعلى ابن مملك