يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبه , قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ:" أَنُفِسْتِ؟" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، قَالَ: " ذَاكَ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ" , قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ، فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ، ثُمَّ جِئْتُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے بھی وہی کیفیت پیش آرہی ہے جو دوسری عورتوں کو پیش آتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ وہی چیز ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی تمام بیٹیوں کے لئے لکھ دی گئی ہے پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لحاف میں گھس گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26525]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى سلمة