أَسْوَدُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَقَامُوا، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ اقْعُدُوا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: " الْإِمَامُ يُؤْتَمُّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ، فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5658، م: 412
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5658، م: 412