حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَبَاهُ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 مَا عَنَى بِذَلِكَ؟ قَالَ:" قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي، قَالَ: فَخَطَرَ خَطْرَةً، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ: أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَيْنِ؟ قَالَ: قَلْباًًٌ مَعَكُمْ، وَقَلَبٌ مَعَهُمْ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوظبیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ « ﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ﴾ [الأحزاب: 4] » ”اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے“، اس ارشاد باری تعالیٰ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، دوران نماز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی خیال آیا، تو وہ منافق جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، کہنے لگے: کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے دو دل ہیں، ایک دل تمہارے ساتھ اور ایک دل ان کے ساتھ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2410]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه