حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، قَابُوسَ ، أَبَاهُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا، فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا، فَقَالَ لَهُ:" أَلَا تَسْتَاكُ؟" , فَقَالَ: إِنِّي لَأَفْعَلُ، وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ , فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ، وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان دونوں کی ضرورت ایک جیسی تھی، ان میں سے ایک نے جب اپنی بات شروع کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کے منہ سے بدبو محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم مسواک نہیں کرتے؟“ اس نے کہا: کرتا ہوں، لیکن مجھے تین دن سے کچھ کھانے کو نہیں ملا (اس کی وجہ سے منہ سے بدبو آرہی ہے)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے اسے ٹھکانہ مہیا کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ضرورت پوری کر دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2409]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قابوس ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، قابوس ضعيف