بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2353
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2353
حدیث نمبر: 2353 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبِيدَةُ ، مَنْصُورٌ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهِ إِلَّا سَاعَةٌ مِنَ النَّهَارِ، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ" , قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ , قَدْ عَلِمَ الَّذِي لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ، فَإِنَّهُ لِلْقُبُورِ وَالْبُيُوتِ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: یہ شہر حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مستثنی فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2353]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، قابوس ضعيف
← پچھلی حدیث (2352) باب پر واپس اگلی حدیث (2354) →