بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2352
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2352
حدیث نمبر: 2352 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبِيدَةُ ، قَابُوسُ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي قَابُوسُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا، قَالَ:" جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، وَلَكِنْ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑی تیزی سے آتے ہوئے دکھائی دیئے، جسے دیکھ کر ہم گھبرا گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے قریب پہنچے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس تیزی سے اس لئے آ رہا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے بتا دوں لیکن اس درمیانی فاصلے میں ہی مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. راجع ما قبله
الحكم: إسناده صحيح. راجع ما قبله
← پچھلی حدیث (2351) باب پر واپس اگلی حدیث (2353) →