أَبو بكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَبدُ الْحَمِيدِ بنُ جَعْفَرٍ ، عَمْرِو بنِ شُعَيْب ، ابنَةِ كُرْدُمَةَ ، أَبيهَا
حَدَّثَنَا أَبو بكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، أَخْبرَنَا عَبدُ الْحَمِيدِ بنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ شُعَيْب ، عَنِ ابنَةِ كُرْدُمَةَ ، عَنْ أَبيهَا ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبلِي، فقَالَ: " إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ عِيدِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى وَثَنٍ، فَلَا، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَاقْضِ نَذْرَكَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا، أَفَتَمْشِي عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کروم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس منت کا حکم پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ منت کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ اللہ کے لئے مانی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم نے اللہ کے لئے جو منت مانی تھی اسے پورا کرو بوانہ نامی جگہ پر جانور ذبح کردو اور اپنی منت پوری کرلو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس بچی کی والدہ نے پیدل چلنے کی منت مانی تھی کیا یہ بچی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23196]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من ابنة كردمة
الحكم: إسناده ضعيف الانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من ابنة كردمة