أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّي ، أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، الْأَعْمَشُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، أَبِيهِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا مَا تَكْرَهُونَ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهَا، وَمِنْ خَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ، وَمِنْ شَرِّ مَا فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہوا کو برا بھلا مت کہا کرو اور جب تمہیں اس میں کوئی ایسی چیز دکھائی دے جو تمہاری طبیعت کو ناگوار محسوس ہو تو یوں کہہ لیا کرو اے اللہ ہم تجھ سے اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں کی اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے، اس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21138]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حبيب بن أبى ثابت لم يسمعه من سعيد بن عبدالرحمن، وقد اختلف فى رفع هذا الحديث ووقفه، ولعل الصواب وقفه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حبيب بن أبى ثابت لم يسمعه من سعيد بن عبدالرحمن، وقد اختلف فى رفع هذا الحديث ووقفه، ولعل الصواب وقفه