مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، أَبِيهِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہوا کو برا بھلا مت کہا کرو البتہ اللہ سے اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں کی اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے، اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21139]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن يزيد، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن يزيد، لكنه توبع