مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَسْلَمُ الْمِنْقَرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، أَبِيهِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَسْلَمُ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أُبَيُّ، أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ ذُكِرْتُ هُنَاكَ؟! قَالَ:" نَعَمْ"، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، فَفَرِحْتَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَاللَّهُ، يَقُولُ: 0 قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ 0، قَالَ مُؤَمَّلٌ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: هَذِهِ الْقِرَاءَةُ فِي الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا میرے پروردگار نے میرا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے سو تمہیں اس پر خوش ہونا چاہئے حضرت ابی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی اس آیت " فبذلک فلتفرحوا " کو " فلتفرحوا " پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21137]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل ابن إسماعيل، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل ابن إسماعيل، لكنه توبع