إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٍ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتَ" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن شاعر کو اپنے والد سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ کے نزدیک عمر ناقد اور معیطی میں سے زیادہ پسندیدہ کون ہے انہوں نے فرمایا کہ عمر ناقد سچ بولنے کی کوشش تلاش کرتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20980]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن