وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيِّ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، قَالَ: فَحَوَّلَ وَجْهَهُ، قَالَ: فَجَاءَنَا فَاعْتَرَفَ مِرَارًا، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ فَرُجِمَ، ثُمَّ أُتِيَ فَأُخْبِرَ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ عِنْدَهُنَّ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ، يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ، لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُمْ، لَأَجْعَلَنَّهُمْ نَكَالًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک حاضر ہوئے اور اپنے متعلق بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رخ انور پھیرلیا وہ کئی مرتبہ آیا اور اعتراف کرتا رہا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لوگوں نے انہیں رجم کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آکر اس کی اطلاع کردی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اللہ کی حمدوثناء کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہماری کوئی جماعت جب بھی اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلتی ہے تو ان میں سے جو شخص پیچھے رہ جاتا ہے اس کی آواز بکرے جیسی ہوجاتی ہے جو کسی کو تھوڑا سا دودھ دیدے واللہ مجھے ان میں سے جس پر بھی قدرت ملی اسے سزا ضرور دوں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20979]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن