يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ، ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ، عَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ، أَوْ أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟، قَالَ:" لَا، بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: فَفِيمَ نَعْمَلُ إِذًا؟، قَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ذی اللحیہ کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ!! کیا ہم ابتداء کوئی عمل کرتے ہیں یا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پہلے سے لکھا جاچکا ہوتا ہے، عرض کیا: پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کے لئے وہی اعمال آسان ہوں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16630]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن