أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ ، ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ ، عَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ، أَوْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟، قَالَ:" بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟، فَقَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ذی اللحیہ کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ!! کیا ہم ابتداء کوئی عمل کرتے ہیں یا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پہلے سے لکھا جاچکا ہوتا ہے، عرض کیا: پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کے لئے وہی اعمال آسان ہوں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16631]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبدالله البصري ضعيف، لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبدالله البصري ضعيف، لكنه توبع