أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، كُرْزٍ الْخُزَاعِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ كُرْزٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَمَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَعْجَمٍ أَوْ عُرْبٍ أَدْخَلَهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَالظُّلَلِ، تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ، مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَتَّقِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کر ز بن علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اسلام کی بھی کوئی انتہاء ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ عرب وعجم کے جس گھرانے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا انہیں اسلام میں داخل کر دے گا راوی نے پوچھا کہ پھر کیا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد سائبانوں کی طرح فتنے چھانے لگیں گے سائل نے کہا ان شاء اللہ ایساہرگز نہ ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے پھر تم کالے سانپوں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15919]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن