بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 15917 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ:" أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ"، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، قَالَ:" نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوْ الْعُجْمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا، أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الْإِسْلَامَ" , قَالَ: ثُمَّ مَهْ , قَالَ:" ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ"، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , قَالَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ". وَقَرَئ عَلَيَّ سُفْيَانُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَسَاوِدَ صُبًّا؟ قَالَ سُفْيَانُ: الْحَيَّةُ السَّوْدَاءُ تُنْصَبُ، أَيْ: تَرْتَفِعُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کر ز بن علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اسلام کی بھی کوئی انتہاء ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ عرب وعجم کے جس گھرانے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا انہیں اسلام میں داخل کر دے گا راوی نے پوچھا کہ پھر کیا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد سائبانوں کی طرح فتنے چھانے لگیں گے سائل نے کہا ان شاء اللہ ایساہرگز نہ ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے پھر تم کالے سانپوں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15917]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15918 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ:" نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوْ الْعُجْمِ أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الْإِسْلَامَ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ" , فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کر ز بن علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اسلام کی بھی کوئی انتہاء ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ عرب وعجم کے جس گھرانے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا انہیں اسلام میں داخل کر دے گا راوی نے پوچھا کہ پھر کیا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد سائبانوں کی طرح فتنے چھانے لگیں گے سائل نے کہا ان شاء اللہ ایساہرگز نہ ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے پھر تم کالے سانپوں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15919 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، كُرْزٍ الْخُزَاعِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ كُرْزٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَمَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَعْجَمٍ أَوْ عُرْبٍ أَدْخَلَهُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَالظُّلَلِ، تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ، مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَتَّقِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کر ز بن علقمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اسلام کی بھی کوئی انتہاء ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ تعالیٰ عرب وعجم کے جس گھرانے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے گا انہیں اسلام میں داخل کر دے گا راوی نے پوچھا کہ پھر کیا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد سائبانوں کی طرح فتنے چھانے لگیں گے سائل نے کہا ان شاء اللہ ایساہرگز نہ ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے پھر تم کالے سانپوں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15919]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن