سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ ، مُحَرِّشٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مَوْلًى لَهُمْ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ يُقَالُ لَهُ: مُحَرِّشٌ أَوْ مُخَرِّشٌ لَمْ يُثْبِتْ سُفْيَانُ اسْمَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ لَيْلًا، فَاعْتَمَرَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَأَصْبَحَ كَبَائِتٍ بِهَا , فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا محرش سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جعرانہ سے رات کے وقت عمرہ کی نیت سے نکلے رات ہی کو مکہ مکر مہ پہنچے عمرہ کیا اور رات ہی کو وہاں سے نکلے اور جعرانہ لوٹ آئے صبح ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات یہیں گزاری ہے میں نے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت مبارک کو دیکھا وہ چاندی میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15512]
الحكم: إسناده حسن