إِبْرَاهِيمُ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , فَسَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ , فَقَالَ: تَبُلُّ الشَّعْرَ , وَتَغْسِلُ الْبَشَرَ، قَالَ: رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنَ الْمَاءِ"، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ: رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کو دھو ڈالو انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح غسل کرتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے توبال لمبے بہت ہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال لمبے تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ لمبے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15037]
الحكم: إسناده صحيح