إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، رَجُلٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ؟، فَقَالَ:" صُمْ , وَسَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک نوجوان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہو نے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کر و اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15036]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن جابر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن جابر