مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَجَّاجٌ ، سَالِمًا ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ، تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کر و لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133