عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، مُسَرَّجًا مُلَجَّمًا لِيَرْكَبَهُ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ:" مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا؟ فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ قَطُّ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، فَارْفَضَّ عَرَقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں زین اور لگام کسا ہوا براق پیش کیا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہوجائیں، لیکن وہ ایک دم بدکنے لگا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس سے فرمایا یہ کیا کر رہے ہو؟ بخدا! تم پر ان سے زیادہ کوئی معزز شخص سوار نہی ہوا، اس پر وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12672]
الحكم: إسناده صحيح