عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَوَجَدَهُمْ حِينَ خَرَجُوا إِلَى زُرُوعِهِمْ وَمَعَهُمْ مَسَاحِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ وَمَعَهُ الْجَيْشُ، نَكَصُوا فَرَجَعُوا إِلَى حِصْنِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ:" الله أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12671]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2991، م: 1365، وانظر ما قبله، و 11992
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2991، م: 1365، وانظر ما قبله، و 11992