عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ، وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ، فَفِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے سامنے ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کو پیش کیا گیا، اس کے پھل " ہجر " نامی مقام کے مٹکوں کے برابر اور پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اس کی جڑ میں سے دو ظاہری اور دو باطنی نہریں جاری تھیں، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا چیزیں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ باطنی نہریں جنت میں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12505
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12505