عَبْدُ الْمَلِكِ ، هِشَامٌ ، زَيْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ، نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ:" فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا" , قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کرلیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11436]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6229، م: 2121
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6229، م: 2121