عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، زَيْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَا رُزِقَ الْعَبْدُ رِزْقًا أَوْسَعَ لَهُ مِنَ الصَّبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے اہل خانہ نے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امداد کی درخواست کرو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے جو شخص صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے اور جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے، جو اللہ سے غناء طلب کرتا ہے اور انسان کو صبر سے زیادہ وسیع رزق کوئی نہیں دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 11435]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1469، م: 1053، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 1469، م: 1053، وهذا إسناد حسن