بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1895 جامع ترمذی
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ مِثْلَ هَذَا، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میٹھا اور ٹھنڈا مشروب سب سے زیادہ پسند تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ابن عیینہ سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، لیکن صحیح وہی ہے جو زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے (جو آگے آ رہی ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (أخربہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 16648) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (4282 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (3006) ، مختصر الشمائل (175)
قال الشيخ زبير على زئي
(1895) إسناده ضعيف
الزھري عنعن (تقدم:440) وللحديث شاھد ضعيف عند أحمد (338/1)
الحكم: صحيح، المشكاة (4282 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (3006) ، مختصر الشمائل (175)
حدیث نمبر: 1896 جامع ترمذی
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: الْحُلْوُ الْبَارِدُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مشروب بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: میٹھا اور ٹھنڈا مشروب۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرسلاً روایت کی ہے،
۲- یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19394 و 19414) (صحیح الإسناد مرسل) (زہری تابعی ہے ان کی روایت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرسل ہے، اور زہری کی مراسیل کو سب سے خراب مرسل کا درجہ علماء نے دیا ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث میں زہری نے بسند عروہ ام المومنین عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح انظر ما قبله (1895)
قال الشيخ زبير على زئي
(1896) إسناده ضعيف
السند مرسل وانظر الحديث السابق : 1895
الحكم: صحيح انظر ما قبله (1895)