أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: الْحُلْوُ الْبَارِدُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مشروب بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا:
”میٹھا اور ٹھنڈا مشروب
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرسلاً روایت کی ہے،
۲- یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1896] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19394 و 19414) (صحیح الإسناد مرسل) (زہری تابعی ہے ان کی روایت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرسل ہے، اور زہری کی مراسیل کو سب سے خراب مرسل کا درجہ علماء نے دیا ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث میں زہری نے بسند عروہ ام المومنین عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح انظر ما قبله (1895)
قال الشيخ زبير على زئي
(1896) إسناده ضعيف
السند مرسل وانظر الحديث السابق : 1895
الحكم: صحيح انظر ما قبله (1895)