بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات۔
Jami at-Tirmidhi
کتب جامع ترمذی کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1322 جامع ترمذی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدَ الْمَلِكِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اذْهَبْ، فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: أَوَ تُعَافِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ، يَقْضِي، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَ قَاضِيًا، فَقَضَى بِالْعَدْلِ فَبِالْحَرِيِّ، أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا، فَمَا أَرْجُو بَعْدَ ذَلِكَ "، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ الْمُعْتَمِرُ هَذَا هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے کہا: جاؤ (قاضی بن کر) لوگوں کے درمیان فیصلے کرو، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے معاف رکھیں گے، عثمان رضی الله عنہ نے کہا: تم اسے کیوں برا سمجھتے ہو، تمہارے باپ تو فیصلے کیا کرتے تھے؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو قاضی ہوا اور اس نے عدل انصاف کے ساتھ فیصلے کئے تو لائق ہے کہ وہ اس سے برابر سرابر چھوٹ جائے (یعنی نہ ثواب کا مستحق ہو نہ عقاب کا)، اس کے بعد میں (بھلائی کی) کیا امید رکھوں، حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔ اور عبدالملک جس سے معتمر نے اسے روایت کیا ہے عبدالملک بن ابی جمیلہ ہیں،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7288) (ضعیف) (سند میں عبد الملک بن ابی جمیلہ مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف تخريج المشكاة (3743 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (2 / 132) ، التعليق على الأحاديث المختارة رقم (348 و 349) // ضعيف الجامع الصغير (5799) //
قال الشيخ زبير على زئي
(1/1322) إسناده ضعيف
عبدالملك بن أبى جميلة : مجھول (تق:4170)
الحكم: ضعيف تخريج المشكاة (3743 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (2 / 132) ، التعليق على الأحاديث المختارة رقم (348 و 349) // ضعيف الجامع الصغير (5799) //
حدیث نمبر: 1323 جامع ترمذی
هَنَّادٌ ، وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ يُنْزِلُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا، فَيُسَدِّدُهُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو قضاء کا مطالبہ کرتا ہے وہ اپنی ذات کے حوالے کر دیا جاتا ہے (اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی) اور جس کو جبراً قاضی بنایا جاتا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأقضیة 3 (3578)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2309)، (تحفة الأشراف: 256)، و مسند احمد (3/118) (ضعیف) (سند میں بلال لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (2309) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (507) ، ضعيف الجامع الصغير (5614) //
قال الشيخ زبير على زئي
(1323) إسناده ضعيف / د 3578، جه 2309
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (2309) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (507) ، ضعيف الجامع الصغير (5614) //
حدیث نمبر: 1324 جامع ترمذی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبِي عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ ، خَيْثَمَةَ وَهُوَ الْبَصْرِيُّ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ وَهُوَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ، وَسَأَلَ فِيهِ شُفَعَاءَ، وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا، يُسَدِّدُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو قضاء کا طالب ہوتا ہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتا ہے، وہ اپنی ذات کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اور جس کو جبراً قاضی بنایا گیا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور یہ اسرائیل کی (سابقہ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 825) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی وہی بلال ہیں جو لین الحدیث ہیں، نیز ”خیثمہ بصری“ بھی لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (2309) // ضعيف الجامع الصغير (5320) ، الضعيفة (1154) //
قال الشيخ زبير على زئي
(1324) إسناده ضعيف /انظر الحديث السابق :1323
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (2309) // ضعيف الجامع الصغير (5320) ، الضعيفة (1154) //
حدیث نمبر: 1325 جامع ترمذی
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ، أَوْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے،
۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأقضیة 1 (3571)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2308)، (تحفة الأشراف: 13002)، و مسند احمد 2/365) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک قول کے مطابق ذبح کا معنوی مفہوم مراد ہے کیونکہ اگر اس نے صحیح فیصلہ دیا تو دنیا والے اس کے پیچھے پڑ جائیں گے اور اگر غلط فیصلہ دیا تو وہ آخرت کے عذاب کا مستحق ہو گا، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ اسے خبردار اور متنبہ کیا جائے کہ اس ہلاکت سے مراد اس کے دین و آخرت کی تباہی و بربادی ہے، بدن کی نہیں، یا یہ کہ چھری سے ذبح کرنے میں مذبوح کے لیے راحت رسانی ہوتی ہے اور بغیر چھری کے گلا گھوٹنے یا کسی اور طرح سے زیادہ تکلیف کا باعث ہوتا ہے، لہٰذا اس کے ذکر سے ڈرانے اور خوف دلانے میں مبالغہ کا بیان ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2308)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2308)