نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ، أَوْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے،
۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1325] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأقضیة 1 (3571)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2308)، (تحفة الأشراف: 13002)، و مسند احمد 2/365) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک قول کے مطابق ذبح کا معنوی مفہوم مراد ہے کیونکہ اگر اس نے صحیح فیصلہ دیا تو دنیا والے اس کے پیچھے پڑ جائیں گے اور اگر غلط فیصلہ دیا تو وہ آخرت کے عذاب کا مستحق ہو گا، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ اسے خبردار اور متنبہ کیا جائے کہ اس ہلاکت سے مراد اس کے دین و آخرت کی تباہی و بربادی ہے، بدن کی نہیں، یا یہ کہ چھری سے ذبح کرنے میں مذبوح کے لیے راحت رسانی ہوتی ہے اور بغیر چھری کے گلا گھوٹنے یا کسی اور طرح سے زیادہ تکلیف کا باعث ہوتا ہے، لہٰذا اس کے ذکر سے ڈرانے اور خوف دلانے میں مبالغہ کا بیان ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2308)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2308)