بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَامِرٍ هُوَ: الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ هُوَ: الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاخْتَارَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ لَا يُفْصَلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وقَالَ إِسْحَاق: وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَهُّدَ، وَرَأَى الشافعي , وَأَحْمَدُ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَخْتَارَانِ الْفَصْلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان: مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مومنوں پر کہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے۔
۲- اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں: ان کے (علی کے) قول
”سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے
“ کے معنی یہ ہیں کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے، اور شافعی اور احمد کی رائے ہے کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسند کرتے ہیں۔
[سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 429] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف وانظر ما تقدم برقم424، وما یأتی برقم 598 (تحفة الأشراف: 10142) (حسن) (سند میں ابواسحاق سبیعی مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت
۱؎: سلام کے ذریعہ فصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چاروں رکعتیں دو دو رکعت کر کے ادا کرتے تھے، اہل ایمان کو ملائکہ مقربین کا تابعدار اس لیے کہا گیا ہے کہ اہل ایمان بھی فرشتوں کی طرح اللہ کی توحید اور اس کی عظمت پر ایمان رکھتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (1161) ، وهو من تمام الحديث المتقدم (425)
الحكم: حسن، ابن ماجة (1161) ، وهو من تمام الحديث المتقدم (425)