يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، جَدَّهُ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب حسن ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 430] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 297 (1271)، (تحفة الأشراف: 7454) (حسن)»
وضاحت
۱؎: نماز عصر سے پہلے یہ چار رکعتیں سنن رواتب (سنن موکدہ) میں سے نہیں ہیں، بلکہ سنن غیر موکدہ میں سے ہیں، تاہم ان کے پڑھنے والے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رحمت کی دعا کرنے سے ان کی اہمیت واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن، المشكاة (1170) ، صحيح أبي داود (1154) ، التعليق الرغيب (1 / 204) ، التعليقات اللجياد، التعليق على ابن خزيمة (1193)
الحكم: حسن، المشكاة (1170) ، صحيح أبي داود (1154) ، التعليق الرغيب (1 / 204) ، التعليقات اللجياد، التعليق على ابن خزيمة (1193)