بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1537 — باب: پیدل چلنے کی قسم کھائے اور نہ چل سکے تو اس کے حکم کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل باب: پیدل چلنے کی قسم کھائے اور نہ چل سکے تو اس کے حکم کا بیان۔ حدیث 1537
حدیث نمبر: 1537 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يَتَهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ , فَقَالَ: " مَا بَالُ هَذَا " , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ " , قَالَ: " فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ " , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بوڑھے کے قریب سے گزرے جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے (حج کے لیے) چل رہا تھا، آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے ان کا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے (پیدل) چلنے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل اس کے اپنی جان کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے، پھر آپ نے اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔ اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور یہ صحیح حدیث ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/جزاء الصید 27 (1865)، والأیمان 31 (6701)، صحیح مسلم/النذور 4 (1642)، سنن ابی داود/ الأیمان 23 (2301)، سنن النسائی/الأیمان 42 (3883)، (تحفة الأشراف: 392)، و مسند احمد (3/106، 114، 183، 135، 271) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1536) باب پر واپس اگلی حدیث (1538) →