عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: نَذَرَتِ امْرَأَةٌ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ , فَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِهَا مُرُوهَا فَلْتَرْكَبْ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَقَالُوا: إِذَا نَذَرَتِ امْرَأَةٌ أَنْ تَمْشِيَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ شَاةً.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ تک (پیدل) چل کر جائے گی، نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ اس کے (پیدل) چلنے سے بے نیاز ہے، اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب عورت (حج کو پیدل) چل کر جانے کی نذر مان لے تو وہ سوار ہو جائے اور ایک بکری دم میں دے۔
[سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1536] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 732) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح