بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی کے دروازے کے پاس کیسے کھڑا ہو؟
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الاستئذان کسی کے دروازے کے پاس کیسے کھڑا ہو؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1078 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصِبِيُّ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ، صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى بَابًا يُرِيدُ أَنْ يَسْتَأْذِنَ لَمْ يَسْتَقْبِلْهُ، جَاءَ يَمِينًا وَشِمَالاً، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلا انْصَرَفَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی کے دروازے پر اس سے اجازت لینے کے لیے تشریف لاتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ دائیں، بائیں کھڑے ہوتے۔ اگر اجازت مل جاتی تو ٹھیک ورنہ واپس تشریف لے جاتے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث
«حسن صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 5186 - أنظر تخريج المشكاة: 4673 التحقيق الثاني»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح