بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی کو بلایا جائے تو یہی اجازت ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الاستئذان کسی کو بلایا جائے تو یہی اجازت ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1074 الادب المفرد
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ إِذَا دُعِيَ الرَّجُلُ فَقَدْ أُذِنَ لَهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کسی آدمی کو بلایا جائے تو اسے گویا اجازت دے دی گئی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث
«صحيح الإسناد موقوفًا: أخرجه ابن أبى شيبة: 25828 و الطبراني فى الكبير: 107/9 - أنظر الإرواء: 1956»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوفًا
الحكم: صحيح الإسناد موقوفًا
حدیث نمبر: 1075 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ، فَهُوَ إِذْنُهُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بلایا جائے، اور وہ بلانے والے کے ساتھ ہی آجائے، تو یہ اس کے لیے اجازت ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 5190 و رواه أحمد: 533/2 من حديث سعيد بن أبى عروية به»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1076 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا دوسرے کو قاصد بھیج کر بلانا اجازت دینا ہی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 5189 - أنظر الإرواء: 1955»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1077 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي الْعَلاَنِيَةِ قَالَ‏:‏ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، ثُمَّ سَلَّمْتُ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، ثُمَّ سَلَّمْتُ الثَّالِثَةَ فَرَفَعْتُ صَوْتِي وَقُلْتُ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الدَّارِ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَتَنَحَّيْتُ نَاحِيَةً فَقَعَدْتُ، فَخَرَجَ إِلَيَّ غُلاَمٌ فَقَالَ‏:‏ ادْخُلْ، فَدَخَلْتُ، فَقَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ‏:‏ أَمَا إِنَّكَ لَوْ زِدْتَ لَمْ يُؤْذَنْ لَكَ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الأَوْعِيَةِ، فَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ إِلاَّ قَالَ‏:‏ حَرَامٌ، حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنِ الْجَفِّ، فَقَالَ‏:‏ حَرَامٌ‏.‏ فَقَالَ مُحَمَّدٌ‏:‏ يُتَّخَذُ عَلَى رَأْسِهِ إِدَمٌ، فَيُوكَأُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو علانیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور «السلام علیکم» کہا تو مجھے اندر آنے کی اجازت نہ ملی۔ میں نے پھر «السلام علیکم» کہا تو بھی اجازت نہ ملی، پھر تیسری مرتبہ میں نے بآواز بلند «السلام علیکم» کہا: اے گھر والو! «السلام علیکم» ۔ لیکن پھر بھی اجازت نہ ملی تو میں دروازے سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر ایک لڑکا گھر سے میرے پاس آیا اور کہا: آجائیں، تو میں اندر داخل ہو گیا۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلا شبہ اگر تم اس (تین مرتبہ) سے زیادہ سلام کہتے تو تمہیں اجازت نہ ملتی۔ پھر میں نے ان سے برتنوں کے بارے میں پوچھا۔ میں نے جس برتن کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: یہ حرام ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان سے جف (چمڑے کے برتن) کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: حرام ہے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: جف وہ برتن ہے جس کے منہ پر چمڑا لگا کر تسمہ باندھ دیا جاتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه شرطه الأول عبدالرزاق: 19424 و الخطيب فى الجامع لأخلاق الراوي: 243 و أخرج شرطه الثاني أحمد: 11633 و عبدالرزاق: 16947 و أبويعلى: 1302 - الصحيحة: 2951»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح