بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آزمائش میں مبتلا ہونے کی دعا کرنا مکروہ ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب آزمائش میں مبتلا ہونے کی دعا کرنا مکروہ ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 727 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ لَمْ تُعْطِنِي مَالا فَأَتَصَدَّقَ بِهِ، فَابْتَلِنِي بِبَلاءٍ يَكُونُ، أَوْ قَالَ: فِيهِ أَجْرٌ، فَقَالَ: ”سُبْحَانَ اللَّهِ، لا تُطِيقُهُ، أَلا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھے مال نہیں دیا جس سے میں صدقہ کرتا، لہٰذا مجھے کسی مصیبت ہی میں مبتلا کر دے جس میں میرے لیے اجر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! تم مصیبت برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یوں دعا کیوں نہیں کی: اے اللہ ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 727]
تخریج الحدیث
«حسن صحيح: و رواه مسلم، كتاب الذكر و الدعاء: 2688 و الترمذي: 3487 - دون قول الرجل، انظر صحيح أبى داؤد: 1359»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 728 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ، قُلْتُ لِحُمَيْدٍ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ قَدْ جَهِدَ مِنَ الْمَرَضِ، فَكَأَنَّهُ فَرْخٌ مَنْتُوفٌ، قَالَ: ”ادْعُ اللَّهَ بِشَيْءٍ أَوْ سَلْهُ“، فَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا أَنْتَ مُعَذِّبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا، قَالَ: ”سُبْحَانَ اللَّهِ، لا تَسْتَطِيعُهُ، أَوَ قَالَ: لا تَسْتَطِيعُوا، أَلا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؟“ وَدَعَا لَهُ، فَشَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے جو بیماری سے اتنا لاغر ہو چکا تھا جیسے بال نوچا ہوا پرندہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرو یا (صحت کا) سوال کرو۔ وہ یوں کہنے لگا: اے اللہ! جو عذاب تو نے مجھے آخرت میں دینا ہے، وہ جلد دنیا ہی میں دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ دعا کیوں نہ کی: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ پھر اس نے دعا کی تو اللہ عزوجل نے اسے شفا دے دی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 728]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الذكر و الدعاء: 2688»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح