حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ، قُلْتُ لِحُمَيْدٍ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ قَدْ جَهِدَ مِنَ الْمَرَضِ، فَكَأَنَّهُ فَرْخٌ مَنْتُوفٌ، قَالَ: ”ادْعُ اللَّهَ بِشَيْءٍ أَوْ سَلْهُ“، فَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ مَا أَنْتَ مُعَذِّبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا، قَالَ: ”سُبْحَانَ اللَّهِ، لا تَسْتَطِيعُهُ، أَوَ قَالَ: لا تَسْتَطِيعُوا، أَلا قُلْتَ: اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؟“ وَدَعَا لَهُ، فَشَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے جو بیماری سے اتنا لاغر ہو چکا تھا جیسے بال نوچا ہوا پرندہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرو یا (صحت کا) سوال کرو۔“ وہ یوں کہنے لگا: اے اللہ! جو عذاب تو نے مجھے آخرت میں دینا ہے، وہ جلد دنیا ہی میں دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ دعا کیوں نہ کی: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ پھر اس نے دعا کی تو اللہ عزوجل نے اسے شفا دے دی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 728]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الذكر و الدعاء: 2688»
الحكم: صحيح