بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بے چینی کے وقت کی دعا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب بے چینی کے وقت کی دعا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 700 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ: ”لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بے چینی اور اضطراب کے وقت یوں دعا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمان و زمین کا رب ہے، اور رب ہے عرش عظیم کا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 700]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الدعوات: 6345 و مسلم: 2730 و النسائي فى الكبرىٰ: 7627 و الترمذي: 3435 و ابن ماجه: 3883»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 701 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لأَبِيهِ: يَا أَبَتِ، إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ: ”اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“، تُعِيدُهَا ثَلاثًا حِينَ تُمْسِي، وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاثًا، وَتَقُولُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“، تُعِيدُهَا ثَلاثًا حِينَ تُمْسِي، وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاثًا، فَقَالَ: نَعَمْ، يَا بُنَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِهِنَّ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ.
قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، وَلا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لا إِلَهَ أَلا أَنْتَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ابا جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں: اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری قوت سماعت میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری بصارت میں عافیت دے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ آپ یہ کلمات تین مرتبہ صبح و شام کہتے ہیں اور کہتے ہیں: اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ آپ یہ کلمات بھی صبح و شام تین تین مرتبہ کہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کلمات کہتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا پسند کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے چینی میں مبتلا پریشان شخص کی دعا یہ ہے: اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں۔ مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا، اور میرے ہر حال کو درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 701]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 5090 و النسائي: 1347، مختصرًا»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 702 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: ”لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، اللَّهُمَّ اصْرِفْ شَرَّهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بے چینی کے وقت یہ دعا کرتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ نہایت عظمت والا اور بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ رب ہے عرش عظیم کا۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ آسمان و زمین کا رب ہے اور رب ہے عرش کریم کا۔ اے اللہ! مجھ سے اس بے چینی کا شر دور کر دے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 702]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الدعوات: 6346 و مسلم: 2730 و الترمذي: 3435 و ابن ماجه: 3883»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح