حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لأَبِيهِ: يَا أَبَتِ، إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ: ”اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“، تُعِيدُهَا ثَلاثًا حِينَ تُمْسِي، وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاثًا، وَتَقُولُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“، تُعِيدُهَا ثَلاثًا حِينَ تُمْسِي، وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاثًا، فَقَالَ: نَعَمْ، يَا بُنَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِهِنَّ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ.
قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، وَلا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لا إِلَهَ أَلا أَنْتَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ابا جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں: ”اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری قوت سماعت میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری بصارت میں عافیت دے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ آپ یہ کلمات تین مرتبہ صبح و شام کہتے ہیں اور کہتے ہیں: ”اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ آپ یہ کلمات بھی صبح و شام تین تین مرتبہ کہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کلمات کہتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا پسند کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بے چینی میں مبتلا پریشان شخص کی دعا یہ ہے: اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں۔ مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا، اور میرے ہر حال کو درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 701]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 5090 و النسائي: 1347، مختصرًا»
الحكم: حسن