بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 24
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 662 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَايَ وَغِنَى مَوْلايَ.“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَوْلًى لَهُمْ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَايَ وَغِنَى مَوْلاَيَ» اے اللہ! میں اپنی اور اپنے متعلقین کی بے نیازی اور مالداری کا سوال کرتا ہوں۔ سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 662]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد: 15756 و ابن أبى شيبة: 24/6 و الطبراني فى الكبير: 329/22 و الدولابي فى الكني: 241 - انظر الضعيفة: 2912»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 663 الادب المفرد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ بِلالِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ: ”قُلِ: اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَلِسَانِي، وَقَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي“، قَالَ وَكِيعٌ: مَنِيِّي يَعْنِي: الزِّنَا وَالْفُجُورَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جس سے میں نفع حاصل کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَلِسَانِي، وَقَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي» تم یہ دعا کیا کرو: اے اللہ! مجھے میرے کانوں، میری آنکھوں، میری زبان اور میرے دل کے شر سے عافیت دے۔ اور میری منی کے شر سے مجھے بچا۔ وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: منی کے شر سے مراد زنا اور بدکاری ہے، یعنی زنا میں واقع ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 663]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الوتر: 1551 و الترمذي: 3492 و النسائي: 5444، 5446»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 664 الادب المفرد
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میری اعانت فرما اور میرے خلاف اعانت نہ فرمانا، اور میری مدد فرما اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، اور میرے لیے ہدایت آسان فرما۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 664]
تخریج الحدیث
«صحيح: أنظر ما يعده»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 665 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلِيقَ بْنَ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدْعُو بِهَذَا: ”رَبِّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَيَسِّرْ لِيَ الْهُدَى، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي شَكَّارًا لَكَ، ذَكَّارًا لَكَ، رَاهِبًا لَكَ، مِطْوَاعًا لَكَ، مُخْبِتًا لَكَ، أَوَّاهًا مُنِيبًا، تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: اے میرے رب! میری اعانت فرما اور میرے مقابلے میں (کسی کی) اعانت نہ فرما، اور میری مدد فرما اور میرے مقابلے میں (کسی کی) مدد نہ فرما، میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر نہ کرنا، میرے لیے ہدایت آسان فرما اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار، تجھے بہت زیادہ یاد کرنے والا، اور تجھ سے ڈرنے والا بنا۔ مجھے اپنا بہت زیادہ فرمانبردار اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا۔ مجھے تیرے حضور گڑگڑانے اور تیری طرف متوجہ ہونے کی توفیق ملے۔ اے اللہ! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہوں کو دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرا عذر قبول فرما، میرے دل کو ہدایت دے، اور میری زبان کو درست فرما دے، اور میرے دل کا کھوٹ دور فرما۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 665]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الوتر: 1510 و الترمذي: 3551 و ابن ماجه: 3830 - انظر المشكاة: 2488»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 666 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَلَى الْمِنْبَرِ: ”إِنَّهُ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللَّهُ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ. وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ“، سَمِعْتُ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الأَعْوَادِ.
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، نَحْوَهُ.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے برسسر منبر یہ دعا پڑھی: (اے اللہ) بلاشبہ جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو اللہ روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا، اور کسی مالدار کو اس کی مالداری اس کے عذاب سے بچا نہیں سکتی۔ اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ میں نے یہ کلمات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منبر کی انہی لکڑیوں پر سنے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت دیگر دو سندوں سے بھی مروی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 666]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 16839 و ابن أبى شيبة: 240/6 و الطبراني فى الكبير: 338/19 - انظر الصحيحة: 1194، 1195»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 667 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”إِنَّ أَوْثَقَ الدُّعَاءِ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، رَبِّ اغْفِرْ لِي.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے مضبوط دعا یہ ہے کہ تو یوں کہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، أَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، رَبِّ اغْفِرْ لِي» اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں۔ گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔ اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 667]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد: 10681 - الضعيفة: 3339»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 668 الادب المفرد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي عَبْدَ الْعَزِيزِ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو: ”اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَحْمَةً لِي مِنْ كُلِّ سُوءٍ“ أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں دعا فرماتے تھے: اے اللہ! میرے لیے میرا دین درست فرما جو میرے تمام امور کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما جس میں جینا ہے، اور موت کو میرے لیے رحمت بنا دے کہ جس کے ساتھ ہر برائی اور مشکل سے نجات پا جاؤں۔ یا اس طرح کے کلمات کہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 668]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الذكر و الدعاء: 2720»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 669 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُمَيٌّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلاءِ، وَدَرْكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ. قَالَ سُفْيَانُ: فِي الْحَدِيثِ ثَلاثٌ، زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً، لا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آزمائش اور مصیبت کی شدت، بدنصیبی کے پہنچنے، بری تقدیر اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: حدیث میں تین باتیں تھیں، ایک کا میں نے اضافہ کیا لیکن معلوم نہیں وہ کون سی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 669]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الدعوات، باب التعوذ من جهد البلاء: 6347، 6616 و مسلم: 2707 و النسائي: 5491»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 670 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْخَمْسِ: مِنَ الْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ چیزوں سے پناہ طلب فرمایا کرتے تھے: کاہلی سے، بخل سے، برے بڑھاپے سے، سینے کے فتنے (برے اخلاق و عقائد) سے اور عذاب قبر سے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 670]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أبوداؤد، كتاب الوتر: 1539 و النسائي: 5443 و ابن ماجة: 3844 - انظر صحيح موارد الظمآن: 2072، 2074»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 671 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میں بےبسی، کاہلی، بزدلی، اور زیادہ بوڑھا ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ میں موت اور زندگی کے فتنے، اور عذاب قبر سے بھی تیری پناہ کا طالب ہوں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 671]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الجهاد و السير: 2823 و مسلم: 2706 و أبوداؤد: 1540 و النسائي: 5452»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 672 الادب المفرد
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» اے اللہ! میں فکر مندی اور رنج سے، بے بسی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے پناہ چاہتا ہوں، نیز قرض کے چڑھ جانے اور لوگوں کے غالب ہونے سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 672]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الدعوات: 6369 و أبوداؤد: 1541 و الترمذي: 3484 و النسائي: 5449»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 673 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ أَلا أَنْتَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہ معاف فرما۔ اور تو میرے ان گناہوں کو بھی بخش دے جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ بلاشبہ تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 673]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 7913 و إسحاق بن راهويه: 308 و أبوالطيالسي: 2516 و الطبراني فى الدعاء: 1794 - انظر الصحيحة: 2944»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 674 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى.“ وَقَالَ أَصْحَابُنَا، عَنْ عَمْرٍو: ”وَالتُّقَى.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پاک دامنی اور مال داری کا سوال کرتا ہوں۔ ہمارے اصحاب نے عمرو کے طریق سے «وَالتقَى» اور تقوے کا سوال کرتا ہوں کا اضافہ نقل کیا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 674]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الذكر و الدعاء: 2721 و الترمذي: 3489 و ابن ماجة: 3832»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 675 الادب المفرد
حَدَّثَنَا بَيَانٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ لا يَخْلِطُهُ شَيْءٌ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا الشَّيْخُ؟ قِيلَ: أَبُو الدَّرْدَاءِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ثمامہ بن حزن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک شیخ کو بآواز بلند یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ اس کا ذرہ بھی مجھے مس کرے۔ میں نے پوچھا: یہ بزرگ کون ہیں؟ کہا گیا: سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 675]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 29540»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 676 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَجْزَأَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الدَّنِسُ مِنَ الْوَسَخِ.“ ثُمَّ يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے پاک کر دے جس طرح میلا کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ پھر فرماتے: اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمان کے بھرنے اور زمین کے بھراؤ کے برابر اور اس چیز سے بھر کر جو تو چاہے اس کے بعد۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 676]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الصلاة: 476 و النسائي: 403 و الترمذي: 3547 و ابن ماجه: 878»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 677 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: ”اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: كَانَ أَنَسٌ يَدْعُو بِهِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر قتادہ رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے لیکن اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 677]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الدعوات: 6389 و مسلم: 2690 و أبوداؤد: 151 و الترمذي: 3487»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 678 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں فقر، قلت اور ذلت سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نیز اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 678]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الوتر: 1544 و النسائي: 5460 و ابن ماجه: 3842»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 679 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلانَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لا نَحْفَظُهُ، فَقُلْنَا: دَعَوْتَ بِدُعَاءٍ لا نَحْفَظُهُ؟ فَقَالَ: ”سَأُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ لَكُمْ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِمَّا سَأَلَكَ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلاغُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ“، أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بہت زیادہ دعائیں کیں، جنہیں ہم یاد نہ رکھ سکے تو ہم نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ نے بہت زیادہ دعائیں کی ہیں جنہیں ہم یاد نہیں رکھ سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ضرور تمہیں ایسی چیز بتاتا ہوں جو ان سب دعاؤں کو تمہارے لیے جمع کر دے گی۔ (تم یوں دعا کرو) اے اللہ! بلاشبہ ہم تجھ سے اس چیز کا سوال کرتے ہیں جس کا تیرے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے۔ اور تجھ سے ہر اس چیز سے پناہ مانگتے ہیں جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پناہ مانگی ہے۔ اے اللہ! تجھ ہی سے مدد طلب کی جا سکتی ہے اور تو ہی مطلوب تک پہنچانے والا ہے۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ کی توفیق سے ہے۔ یا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 679]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه الترمذي، كتاب الدعوات: 3521 - الضعيفة: 3356»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 680 الادب المفرد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے مسیح دجال کے فتنے سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں تجھ سے آگ کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 680]
تخریج الحدیث
«حسن صحيح: انظر الحديث، رقم: 656»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 681 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ نُصَيْرِ بْنِ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ قَنَّعْنِي بِمَا، وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ كُلَّ غَائِبَةٍ بِخَيْرٍ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! جو تو رزق ہمیں عطا کرے اس پر قناعت عطا فرما، اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور میری جو چیزیں میرے سامنے نہیں، خیر کے ساتھ میرے پیچھے ان کی حفاظت فرما۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 681]
تخریج الحدیث
«ضعيف موقوفًا و روي مرفوعًا: أخرجه ابن أبى شيبة: 15816 و الحاكم: 626/1 و البيهقي فى الآداب: 1083 - الضعيفة: 6042»
قال الشيخ الألباني
ضعيف موقوفًا و روي مرفوعًا
الحكم: ضعيف موقوفًا و روي مرفوعًا