بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
خادم سے درگزر کرنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب خادم سے درگزر کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 163 الادب المفرد
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ‏:‏ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ غُلامَانِ، فَوَهَبَ أَحَدُهُمَا لِعَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ‏:‏ ”لَا تَضْرِبْهُ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلاَةِ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُنْذُ أَقْبَلْنَا“، وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلاَمًا، وَقَالَ‏:‏ ”اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا“، فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ‏:‏ ”مَا فَعَلَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِي بِهِ خَيْرًا فَأَعْتَقْتُهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے جبکہ آپ کے ساتھ دو غلام تھے۔ ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور نصیحت کی: اسے مارنا نہیں ہے کیونکہ مجھے نمازی (مسلمان) غلاموں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے، اور یہ جب سے ہمارے پاس آیا ہے میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ اور ایک غلام سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور یوں نصیحت فرمائی: اس کے بارے میں اچھائی کی وصیت قبول کرو۔ تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو نے اس غلام کا کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا: آپ نے مجھے اس کے بارے میں حسنِ سلوک کی وصیت قبول کرنے کا حکم دیا تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 163]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أحمد: 22154 و الطبراني فى الكبير: 275/8 و محمد بن نصر فى تعظيم قدر الصلاة مختصرًا: 977 و البيهقي فى شعب الإيمان نحوه: 292/4 - الصحيحة: 1428»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 164 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ لَبِيبٌ، فَلْيَخْدُمْكَ‏.‏ قَالَ‏:‏ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُ‏:‏ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا‏؟‏ وَلاَ قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ‏:‏ أَلاَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا‏؟‏‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی خادم نہیں تھا، چنانچہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے نبی! انس بڑا ذہین و فطین اور ہوشیار بچہ ہے، لہٰذا یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے وفات تک حضر وسفر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی میرے کسی (نامناسب) کام پر یہ نہیں کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ میرے کسی کام کے سر انجام نہ دینے پر یہ کہا کہ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 164]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، الوصايا، باب استخدام اليتيم فى السفر و الحضر: 2768، 6038 و مسلم: 2309»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح