حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ غُلامَانِ، فَوَهَبَ أَحَدُهُمَا لِعَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: ”لَا تَضْرِبْهُ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلاَةِ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُنْذُ أَقْبَلْنَا“، وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلاَمًا، وَقَالَ: ”اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا“، فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ: ”مَا فَعَلَ؟“ قَالَ: أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِي بِهِ خَيْرًا فَأَعْتَقْتُهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے جبکہ آپ کے ساتھ دو غلام تھے۔ ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور نصیحت کی: ”اسے مارنا نہیں ہے کیونکہ مجھے نمازی (مسلمان) غلاموں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے، اور یہ جب سے ہمارے پاس آیا ہے میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ اور ایک غلام سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور یوں نصیحت فرمائی: ”اس کے بارے میں اچھائی کی وصیت قبول کرو۔“ تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تو نے اس غلام کا کیا کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ نے مجھے اس کے بارے میں حسنِ سلوک کی وصیت قبول کرنے کا حکم دیا تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 163]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أحمد: 22154 و الطبراني فى الكبير: 275/8 و محمد بن نصر فى تعظيم قدر الصلاة مختصرًا: 977 و البيهقي فى شعب الإيمان نحوه: 292/4 - الصحيحة: 1428»
الحكم: حسن