حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ لَبِيبٌ، فَلْيَخْدُمْكَ. قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُ: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلاَ قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ: أَلاَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی خادم نہیں تھا، چنانچہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے نبی! انس بڑا ذہین و فطین اور ہوشیار بچہ ہے، لہٰذا یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے وفات تک حضر وسفر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی میرے کسی (نامناسب) کام پر یہ نہیں کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ میرے کسی کام کے سر انجام نہ دینے پر یہ کہا کہ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 164]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، الوصايا، باب استخدام اليتيم فى السفر و الحضر: 2768، 6038 و مسلم: 2309»
الحكم: صحيح