حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ: مَرَرْتُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمِّ الْحَكَمِ فَسَلَّمْتُ، فَمَا رَدَّ عَلَيَّ شَيْئًا؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا يَكُونُ عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ؟ رَدَّ عَلَيْكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، مَلَكٌ عَنْ يَمِينِهِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں عبدالرحمٰن بن ام الحکم کے پاس سے گزرا اور سلام کہا تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! تجھے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ تجھے اس سے بہتر نے سلام کا جواب دیا ہے۔ یعنی اس کے دائیں جانب والے فرشتے نے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث
«صحيح الإسناد موقوفًا على أبى ذر: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوفًا على أبى ذر
الحكم: صحيح الإسناد موقوفًا على أبى ذر