بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس نے سلام کا جواب نہ دیا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السلام جس نے سلام کا جواب نہ دیا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1038 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ‏:‏ قُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ‏:‏ مَرَرْتُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمِّ الْحَكَمِ فَسَلَّمْتُ، فَمَا رَدَّ عَلَيَّ شَيْئًا‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ يَا ابْنَ أَخِي، مَا يَكُونُ عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ‏؟‏ رَدَّ عَلَيْكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، مَلَكٌ عَنْ يَمِينِهِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں عبدالرحمٰن بن ام الحکم کے پاس سے گزرا اور سلام کہا تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! تجھے رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ تجھے اس سے بہتر نے سلام کا جواب دیا ہے۔ یعنی اس کے دائیں جانب والے فرشتے نے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث
«صحيح الإسناد موقوفًا على أبى ذر: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوفًا على أبى ذر
الحكم: صحيح الإسناد موقوفًا على أبى ذر
حدیث نمبر: 1039 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ إِنَّ السَّلاَمَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ، وَضَعَهُ اللَّهُ فِي الأَرْضِ، فَأَفْشُوهُ بَيْنَكُمْ، إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ فَرَدُّوا عَلَيْهِ كَانَتْ لَهُ عَلَيْهِمْ فَضْلُ دَرَجَةٍ، لأَنَّهُ ذَكَّرَهُمُ السَّلاَمَ، وَإِنْ لَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَطْيَبُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «السلام» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جسے اللہ نے زمین میں رکھ دیا ہے، لہٰذا اسے آپس میں عام کرو۔ بے شک آدمی جب کسی قوم پر سلام کرتا، اور وہ اس کا جواب دیتے ہیں تو سلام کرنے والے کو ایک درجہ فضیلت ہوتی ہے، کیونکہ اس نے ان کو سلام یاد دلایا۔ اور اگر اسے جواب نہ ملے تو اس کو اس سے بہتر اور پاکیزہ مخلوق کی طرف سے جواب مل جاتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث
«صحيح الإسناد موقوفًا و صح مرفوعًا: شعب الإيمان للبيهقى: 432/6، ح: 8782»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوفًا و صح مرفوعًا
الحكم: صحيح الإسناد موقوفًا و صح مرفوعًا
حدیث نمبر: 1040 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ‏:‏ التَّسْلِيمُ تَطَوَّعٌ، وَالرَّدُّ فَرِيضَةٌ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سلام کہنا نفل اور جواب دینا فرض ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث
«صحيح: الجامع الصغير للسيوطي، حديث: 4848»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح